April 15, 2020

Aik Orat Ka Ebratnak Wakiah | ایک عورت کا عبرتناک واقعہ

Aik Orat Ka Ebratnak Wakiah | ایک عورت کا عبرتناک واقعہ 


ایک عورت کا عبرتناک واقعہ

حافظ ابن ِ کثیر نے ایک عبرت ناک واقعہ بروایت جریرو بن ابن ابی حاتم عن مجاہد ذکر کیا ہے ' کہ پہلی اُمتوں میں ایک عورت تھی ' اس کو جب وضع حمل کا وقت شروع ہوا ، اور تھوڑی دیر کے بعد بچہ پیدا ہوا ' تو اس نے اپنے ملازم کو آگ لینے کے لیے بھیجا 'وہ دروازہ سے نکل ہی رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی ظاہرہوا ، اور اس نے پوچھا کہ اس عورت نے کیا جنا ہے ؟  ملازم نے جواب دیا کہ ایک لڑکی ہے تو اس آدمی نے کہا کہ آپ یاد رکھیئے ! یہ لڑکی سو مردوں سے زنا کرے گی ، اور آخر ایک مکڑی سے مرے گی ، ملازم یہ سن کر واپس ہوا ، اور فوراًایک چھری لے کر اس لڑکی کا پیٹ چاک کر دیا ، اور سوچا کہ اب یہ مر گئی ہے تو بھاگ گیا مگر پیچھے لڑکی کی ماں نے ٹانکے لگا کراس کا پیٹ جوڑ دیا ، یہاں تک کہ وہ لڑکی جوان ہوگئی ، اور خوبصورت اتنی تھی کہ اس شہر میں وہ  بے مثال تھے ، اور اس ملازم نے بھاگ کر سمندر کی رہ لی ، اور کافی عرصہ تک مال و دولت کماتا رہا ، اور پھر شادی کرنے کے لیے دوبارہ شہر آیا ، اور یہاں اس کو ایک بڑھیا ملی ، تو اس سے ذکر کیا کہ میں ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس سے زیادہ خوبصورت اس شہر میں کوئی اور نہ ہو ، اس عورت نے  کہا فلاں لڑکی سے زیادہ کوئی خوبصورت نہیں ہے ، آپ اسی سے شادی کر لیں آخر کار بہت کوشش کی اور اس سے شادی کر لی ، تو اس لڑکی نے مرد نے مرد سے دریافت کیا کہ تم کون ہو ؟ اور کہاں رہتے ہو ؟ اس نے کہا نے کہا میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں لیکن ایک لڑکی کا میں پیٹ چاک کر کے بھاگ گیا تھا ، پھر اس نے پورا واقعہ سنایا ، یہ سن کر وہ بولی کہ وہ لڑکی میں ہی ہوں ، یہ کہہ کر اس نے اپنا پیٹ دکھایا ، جس پر نشان موجود تھا ، یہ دیکھ کر اس مرد نے کہا کہ اگر تو وہی عورت ہے تو تیرے متعلق دو باتیں بتلاتا ہوں ، ایک یہ کہ تو سو مردوں سے زنا کرے گی ، اس پر عورت نے اقرار کیاکہ ہاں مجھ سےایسا ہوا ہے ، لیکن لیکن تعداد یاد نہیں ، مرد نے کہا تعداد سو ہے ، دوسری بات یہ کہ تو مکڑی سے مرے گی ۔ 

         مرد نے اس کے لیے ایک عالی شان محل تیار کرایا ، جس میں مکڑی کے جالے کا نام نہ تھا ، ایک دن اسی میں لیٹے ہوئے تھے کہ دیوار پر ایک مکڑی نظر آئی ، عورت بولی کیا مکڑی یہی ہےجس سے تو مجھے ڈراتا ہے؟ مرد نے کہاں ہاں !اس پر وہ فوراً اُٹھی اور کہا اس کو تو میں فوراً مار دوں گی ، یہ کہہ اس کو نیچے گرایا اور پاؤں سے مسل کر ہلاک کر دیا ۔ مکڑی تو ہلاک ہو گئی ، لیکن اس کے زہر کی چھینٹیں اس کے پاؤں اور ناخنوں پر پڑ گئیں جو اس کی موت کا پیغام بن گئی۔

April 15, 2020

Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai Part 2 | Islamic Masail

Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai Part 2 | Islamic Masail

Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai Part 2 | Islamic Masail
Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai Part 2 | Islamic Masail


غسل کس پانی سے جائز ہے پارٹ 2


مسئلہ نمبر 11: بڑا بھاری حوض جو دس ہاتھ لمبا، دس ہاتھ چوڑا اور اتنا گہرا ہو کہ اگر چُلو سے پانی 

اُٹھائیں تو زمین نہ کھلے یہ بھی بہتے ہوئے پانی کے مثل ہے۔ اگر اس میں ایسی نجاست پڑ جائے 

جو پڑ جانے کے بعد دکھلائی نہیں دیتی جیسے پیشاب، خون، شراب وغیرہ تو چاروں طرف وضو کرنا 

درست ہے۔ جدھر چاہے وضو کرے۔ اگر ایسی نجاست پڑ جائے جو دکھائی دیتی ہے جیسے مردہ 

کُتا تو جدھر پڑا ہو اس طرف وضو نہ کرے اس کے سوا اور جس طرف چاہے کرے البتہ اگر 

اتنے بڑے حوض میں اتنی نجاست پڑ جائے کہ رنگ یا مزہ بدل جائے یا بد بو آنے لگے تو نجس 

ہو جائے گا۔

 مسئلہ نمبر 12: اگر بیس ہاتھ لمبا یا پانچ ہاتھ چوڑا یا پچیس ہاتھ لمبا اور چار ہاتھ چوڑا 

ہو وہ حوض بھی دہ در دہ کے مثل ہے۔ مسئلہ نمبر 13: چھت پر نجاست پڑی ہے اور پانی برسا 

اور پرنالہ چلا تو اگر آدھی یا آدھی سے زیادہ چھت ناپاک ہے تو وہ پانی نجس ہے اور اگر چھت 

آدھی سے کم ناپاک ہے تو وہ پانی پاک ہے اور اگر نجاست پر نالے کے پاس ہی ہو اور اتنی ہو 

کہ سب پانی اس سے مل کر آتا ہو تو وہ پانی نجس ہے۔ مسئلہ نمبر 14: اگر پانی آہستہ آہستہ بہتا 

ہو تو بہت جلدی جلدی وضو نہ کرے تا کہ جو دھون گرتا ہے وہی ہاتھ میں آجائے۔ مسئلہ نمبر 

15: دہ در دہ حوض میں جہاں دھون گرا ہے اگر وہیں سے پانی اُٹھا لے تو بھی جائز ہے۔ مسئلہ 

نمبر 16: اگر کوئی کافر یا لڑکا بچہ اپنا ہاتھ پانی میں ڈال دے تو پانی نجس نہیں ہوتا البتہ اگر معلوم 

ہو جائے کہ اس کے ہاتھ میں نجاست لگی تھی تو ناپاک ہو جائے گا لیکن چونکہ چھوٹے بچے کا کچھ 

اعتبار نہیں اس لئے جب تک کوئی اور پانی ملے اس کے ہاتھ ڈالے ہوئے پانی سے وضو نہ کرنا 

بہتر ہے۔

 مسئلہ نمبر 17: جس پانی میں ایسی جاندار چیز مر جائے جس کا بہتا ہوا خون نہیں ہوتا یا 

باہر مر کر پانی میں گر پڑے تو پانی نجس نہیں ہوتا جیسے مچھر، مکھی، بھڑ، بچھو، شہد کی مکھی یا اسی 

قسم کی اور جو چیز ہو۔ مسئلہ نمبر 18: جس چیز کی پیدائش پانی کی ہو اور ہر دم پانی ہی میں رہا 

کرتی ہو اس کے مر جانے سے پانی خراب نہیں ہوتا پاک رہتا ہے جیسے مچھلی، مینڈک، کچھوا کیکڑا 

وغیرہ اور اگر پانی کے سوا اور کسی چیز میں مر جائے جیسے سرکہ، شیرہ دودھ وغیرہ تو وہ بھی 

ناپاک نہیں ہوتا اور خشکی کا مینڈک اور پانی کا مینڈک دونوں کا ایک حکم ہے یعنی اس کے 

مرنے سے پانی نجس نہیں ہوتا لیکن اگر خشکی کے مینڈک میں خون ہوتا ہو تو اس کے مرنے 

سے پانی وغیرہ جو چیز ہو ناپاک ہو جائے گی۔ فائدہ: دریائی مینڈک کی پہچان یہ ہے کہ اس کی 

انگلیوں کے بیچ میں جھلی لگی ہوتی ہے اور خشکی کے مینڈک کی انگلیاں الگ الگ ہوتی ہیں۔

مسئلہ نمبر 19: جو چیز پانی میں رہتی ہو لیکن اس کی پیدائش پانی کی نہ ہو اس کے مرنے سے پانی

خراب اور نجس ہو جاتا ہے جیسے بطخ اور مرغابی اسی طرح اگر مینڈک مر کر پانی میں گر پڑے تو 

بھی پانی نجس ہو جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 20: مینڈک، کچھوا وغیرہ اگر پانی میں مر کر بالکل گل جائے 

اور ریزہ ریزہ ہو کر پانی میں مل جائے تو بھی پانی پاک ہے لیکن اس کا پینا اور اس سے کھانا پکانا 

درست نہیں البتہ وضو اور غسل اس سے کر سکتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 21: دھوپ کے جلے ہوئے پانی 

سے سفید داغ ہو جانے کا ڈر ہے اس لئے اس سے وضو اور غسل نہیں کرنا چاہیے۔ 

مسئلہ نمبر 22: مردار کی کھال کو جب دھوپ میں سکھا ڈالیں یا کچھ دوا وغیرہ لگا کر درست کر 

لیں کہ پانی مر جائے اور رکھنے سے خراب نہ ہو تو وہ پاک ہو جاتی ہے اس پر نماز پڑھنا درست

ہے اور مشک وغیرہ بنا کر اس میں پانی رکھنا بھی درست ہے لیکن سور کی کھال پاک نہیں ہوتی

اور باقی سب کھالیں پاک ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انسان کی کھال سے کوئی کام لینا اور برتنا

بہت گناہ ہے۔

مسئلہ نمبر 23: کتا، بندر، بلی، شیر وغیرہ جن کی کھال بنانے سے پاک ہو جاتی ہے بسم اللہ کہہ کر 

ذبح کرنے سے بھی کھال پاک ہو جاتی ہے چاہے بنائی ہو یا بے بنائی ہو۔ البتہ ذبح کرنے سے 

ان کا گوشت پاک نہیں ہوتا اور ان کا کھانا بھی درست نہیں۔ مسئلہ نمبر 24: مردار کے بال، 

سینگ اور ہڈی اور دانت یہ سب چیزیں پاک ہیں اگر پانی میں گر جائیں تو پانی ناپاک نہیں ہو گا۔ 

البتہ اگر ہڈی اور دانت وغیرہ پر اس مردار جانور کی کچھ چکنائی وغیرہ لگی ہو تو وہ نجس ہے اور 

پانی بھی ناپاک ہو جائے گا۔ مسئلہ نمبر 25: انسان کی بھی ہڈی اور بال پاک ہیں لیکن ان کو برتنا 

اور کام میں لانا جائز نہیں بلکہ عزت سے کسی جگہ دفنا دینا چاہیے۔


April 14, 2020

Qabila Ashriyeen ka rizq sy Motalaq waqia | قبیلہ اشعریین کا رزق سے متعلق کا واقعہ

Qabila Ashriyeen ka rizq sy Mutaliq waqia 


Qabila Ashriyeen ka rizq sy Motalaq waqia |  قبیلہ اشعریین کا رزق سے متعلق کا واقعہ

قبیلہ اشعریین کا رزق سے متعلق واقعہ 

امام قرطبیؒ  نے ابو موسیٰ اور ابو مالک سے قبیلہ اشعر یّین  کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ 

ہجرت کر کے مدینہ طیبہ پہنچے تو جو کچھ توشہ اور کھانے پینے کا سامان  ین کے پاس تھا وہ ختم ہو 

گیا ' انہوں نے اپنا ایک آدمی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس غرض سے بھیجا کہ ان کے 

کھانے وغیرہ کا انتظام فر ما دیں ' یہ شخص جب رسول ﷺ کے دروازہ پر پہنچا تو اندر سے آواز

 آئی کہ رسول اکرم ﷺ یہ آیت پڑھ رہے ہیں  


وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الاَ ر ضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزقُھَا

اس شخص کو یہ آیت سن کر خیال آیا کہ جب اللہ نے سب جانداروں کا رزق اپنے ذمہ لے لیا 

ہے تو پھر ہم اشعری بھی اللہ کے نزدیک دوسرے جانوروں سے گئے گزرے نہیں وہ ضرور 

ہمیں بھی رزق دیں گے ، یہ خیال کر کے وہیں سے واپس ہو گیا ، آنحضرت ﷺ کو اپنا کچھ 

حال نہیں بتلایا ، واپس جا کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ خوش ہو جاؤ تمھارے لیے اللہ کی مدد آ 

رہی ہے ، اس کہ اشعری ساتھیوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا کہ ان کہ قاصد نے حسبِ 

قرارداد رسول کریم ﷺ سے اپنی حاجت کا ذکر کیا ہے اور آپ ﷺ نے انتظام کا وعدہ فرما 

لیا ہے وہ یہ سمجھ کر مطمئن بیٹھ گئے ، وہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ دو آدمی ایک ( قصعہ ) گوشت اور 

روٹیوں سے بھرا ہوا ٹھائے لا  رہے ہیں قصعہ ایک بڑا  برتن ہوتا ہے جیسے تشلہ یا سینی ، لانے 

والوں نے یہ کھانا اشعریّین کو دے دیا انھوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھا یا پھر بھی بچ رہا تو ان 

لوگوں نے یہ مناسب سمجھا کہ باقی کھانا آنحضرت ﷺ کے پاس بھیج دیں تا کہ اس کو آپ 

اپنی ضرورت میں صرف فرما دیں ، اپنے دو آدمیوں کو یہ کھانا دے کر آنحضرتﷺ کے پاس 

بھیج دیا ۔


          اس کے بعد یہ سب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا 

رسول اللہ ﷺ آپ کا بھیجا ہوا کھانا بہت زیادہ اور بہت نفیس و لذیذ تھا ، آپ نے فرمایا کہ 

میں نے تو کوئی کھانا نہیں بھیجا ۔


          تب انھوں نے پورا واقعہ عرض کیا کہ ہم نے اپنے فلاں آدمی کو آپ کے پاس بھیجا تھا ، 

اس نے یہ جواب دیا ، جس سے ہم سمجھے کہ کھانا آپ نے بھیجا ہے ، یہ سن کر آپ ﷺ نے 

فرمایا یہ میں نے نہیں بلکہ اس ذات ِ قدوس نے بھیجا ہے جس نے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمہ لیا 

ہے ۔

( معارف القرآن جلد ۴ صفحہ ۵۹۱ ، سورۃ ہود : آیت ۶)
April 13, 2020

Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai | Islami Masail

Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai | Islami Masail

Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai | Islami Masail
Ghusal Kis Pani Se Jaiz Hai | Islami Masail


غسل کس پانی سے جائز ہے؟


مسئلہ نمبر 1: آسمان سے برسے ہوئے پانی اور ندی نالے، چشمے اور کنویں، تالاب اور دریاؤں کے پانی سے وضو اور غسل کرنا درست ہے چاہے میٹھا پانی ہو یا کھاری۔ مسئلہ نمبر 2: کسی پھل یا درخت یا پتوں سے نچوڑے ہوئے عرق سے وضو کرنا درست نہیں اسی طرح جو پانی تربوز سے نکلتا ہے اس سے اور گنے وغیرہ کے رس سے وضو اور غسل درست نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 3: جس پانی میں کوئی اور چیز مل گئی ہو یا پانی میں کوئی چیز پکا لی گئی اور ایسا ہو گیا کہ اب بول چال میں اس کو پانی نہیں کہتے بلکہ اس کا کچھ اور نام ہو گیا تو اس سے وضو اور غسل جائز نہیں جیسے شربت، شیرہ، شوربا، سرکہ، گلاب اور عرق گاؤ زبان وغیرہ کہ ان سے وضو درست نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 4: جس پانی میں کوئی پاک چیز پڑ گئی اور پانی کے رنگ یا مزہ یا بو میں کچھ فرق آ گیا لیکن وہ چیز پانی میں پکائی نہیں گئی نہ پانی کے پتلے ہونے میں کچھ فرق آیا جیسا کہ بہتے ہوئے پانی میں کچھ ریت ملی ہوئی ہوتی ہے یا پانی میں زعفران پڑ گیا ہو اور اس کا بہت خفیف سا رنگ آ گیا ہو یا صابن پڑ گیا یا اسی طرح کی اور کوئی چیز پڑ گئی تو ان سب صورتوں میں وضو اور غسل درست ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اگر کوئی چیز پانی میں ڈال کر پکائی گئی جس سے میل کچیل خوب صاف ہو جاتا ہے اور اس کے پکانے سے پانی گاڑھا نہ ہو تو اس سے وضو درست ہے جیسا کہ مردہ نہلانے کے لئے بیری کی پتیاں پکاتے ہیں تو اس میں کچھ حرج نہیں البتہ اگر اتنی زیادہ ڈال دیں کہ پانی گاڑھا ہو گیا تو اس سے وضو اور غسل درست نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 6: کپڑے رنگنے کے لئے زعفران گھولا تو اس سے وضو درست نہیں۔ مسئلہ نمبر 7: اگر پانی میں دودھ مل گیا تو اگر دودھ کا رنگ اچھی طرح سے پانی میں آ گیا تو وضو درست نہیں اور اگر دودھ بہت کم تھا کہ رنگ نہیں آیا تو وضو درست ہو گا۔ مسئلہ نمبر 8: جنگل میں کہیں تھوڑا پانی ملا تو جب تک اس کی نجاست کا یقین نہ ہو جائے تب تک اس سے وضو کرے فقط اس وہم پر نہ چھوڑے کہ شاید نجس ہو اگر اس کے ہوتے ہوئے کسی نے تیمم کیا تو تیمم درست نہیں ہو گا۔ مسئلہ نمبر 9: کسی کنویں وغیرہ میں کسی درخت کے پتے گر پڑے اور پانی میں بدبو آنے لگی اور رنگ اور مزہ بھی بدل گیا تو بھی اس سے وضو درست ہے جب تک کہ پانی اس طرح پتلا باقی رہے۔ مسئلہ نمبر 10: جس پانی میں نجاست پڑ جائے تو اس سے وضو اور غسل کچھ بھی درست نہیں چاہے وہ نجاست تھوڑی ہو یا بہت ہو البتہ اگر بہتا ہوا پانی ہو تو وہ نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے رنگ یا مزہ یا بو میں کچھ فرق نہ آئے اور جب نجاست کی وجہ سے رنگ یا مزہ بدل گیا یا بو آنے لگی تو بہتا ہوا پانی بھی نجس ہو جائے گا اس سے وضو درست نہیں اور جو پانی گھاس، تنکے، پتے کو بہا لے جائے وہ بہتا پانی ہے چاہے کتنا ہی آہستہ آہستہ بہتا ہو۔


April 13, 2020

Ghusal Kin Cheezon Se Farz Hota Hai | Islami Masail

Ghusal Kin Cheezon Se Farz Hota Hai | Islami Masail

Ghusal Kin Cheezon Se Farz Hota Hai | Islami Masail
Ghusal Kin Cheezon Se Farz Hota Hai | Islami Masail


جن چیزوں سے غسل فرض ہوتا ہے ان کا بیان



مسئلہ نمبر 1: سوتے یا جاگتے میں جب جوانی کے جوش کے ساتھ منی نکل آئے تو غسل واجب ہو جاتا ہے چاہے خیال کرنے اور دھیان کرنے سے ہی نکلے ہر حال میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اگر آنکھ کھلی اور کپڑے یا بدن پر منہ لگی ہوئی دیکھی تو بھی غسل کرنا واجب ہے چاہے سوتے میں کوئی خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو۔ تنبیہ: جوانی کے جوش کے وقت اول اول جو پانی نکلتا ہے اور اس کے نکلنے سے جوش زیادہ ہو جاتا ہے کم نہیں ہوتا اس کو مذی کہتے ہیں اور خوب مزہ آ کر جب جی بھر جاتا ہے اس وقت جو نکلتا ہے اس کو منی کہتے ہیں اور پہچان ان دونوں کی یہی ہے کہ منی نکلنے سے جی بھر جاتا ہے اور جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور مذی کے نکلنے سے جوش کم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ ہو جاتا ہے اور مذی پتلی ہوتی ہے اور منی گاڑھی ہوتی ہے۔ سو فقط مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا البتہ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: جب مرد کے پیشاب کے مقام کی سپاری اندر چلی جائے اور چھپ جائے تو بھی غسل واجب ہو جاتا ہے چاہے منی نکلے یا نہ نکلے مرد کی سپاری آگے کی راہ میں گئی ہو تو بھی غسل واجب ہے چاہے کچھ بھی نہ نکلا ہو اور اگر پیچھے کی راہ میں گئی ہو تب بھی غسل واجب ہے لیکن پیچھے کی راہ میں کرنا اور کرانا بڑا گناہ ہے۔ مسئلہ نمبر 4: جو خون آگے کی راہ سے ہر مہینہ آیا کرتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔ جب یہ خون بند ہو جائے تو غسل کرنا واجب ہے اور جو خون بچہ پیدا ہونے کے بعد آتا ہے اس کو نفاس کہتے ہیں اس کے بند ہونے پر بھی غسل کرنا واجب ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ چار چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے۔ جوش کے ساتھ منی نکلنا، مرد کی سپاری کا اندر چلا جانا، حیض ونفاس کے خون کا بند ہو جانا۔
مسئلہ نمبر 5: چھوٹی لڑکی سے اگر کسی مرد نے صحبت کی جو ابھی جوان نہیں ہوئی تو اس پر غسل واجب نہیں لیکن عادت ڈالنے کے لئے اس سے غسل کرانا چاہیے۔ مسئلہ نمبر 6: سوتے میں مرد کے پاس رہنے اور صحبت کرنے کا خواب دیکھا اور مزہ بھی آیا لیکن آنکھ کھلی تو دیکھا کہ منی نہیں نکلی ہے تو اس پر غسل واجب نہیں ہے۔ البتہ اگر منی نکل آئی ہو تو غسل واجب ہے اور اگر کپڑے یا بدن پر کچھ بھیگا بھیگا معلوم ہو لیکن یہ خیال ہو کہ یہ مذی ہے منی نہیں تب بھی غسل کرنا واجب ہے۔
مسئلہ نمبر 7: اگر تھوڑی سی منی نکلی اور غسل کر لیا پھر نہانے کے بعد اور منی نکل آئی تو پھر نہانا واجب ہے اور اگر نہانے کے بعد شوہر کی منی نکلی جو عورت کے اندر تھی تو غسل درست ہو گیا پھر نہانا واجب نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 8: بیماری یا اور کسی وجہ سے آپ ہی آپ منی نکل آئی مگر جوش اور خواہش بالکل نہ تھی تو غسل واجب نہیں البتہ وضو ٹوٹ جائے گا۔ مسئلہ نمبر 9: میاں بیوی دونوں ایک پلنگ پر سو رہے تھے جب اُٹھے تو چادر پر منی کا دھبہ دیکھا اور سوتے میں خواب کا دیکھنا نہ مرد کو یاد ہے نہ عورت کو تو دونوں نہا لیں احتیاط اسی میں ہے کیونکہ معلوم نہیں کہ یہ کس کی منی ہے۔
مسئلہ نمبر 10: جب کوئی کافر مسلمان ہو جائے تو اس کو غسل کرنا مستحب ہے۔ مسئلہ نمبر 11: جب کوئی مردے کو نہلائے تو نہلانے کے بعد غسل کر لینا مستحب ہے۔ مسئلہ نمبر 12: جس پر نہانا واجب ہے و ہ اگر نہانے سے پہلے کچھ کھانا پینا چاہے تو پہلے اپنے ہاتھ اور منہ دھوئے اور کلی کر لے تب کھائے پئے اور اگر ہاتھ منہ دھوئے بغیر کھا پی لے تن بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 13: جن کو نہانے کی ضرورت ہے ان کو قرآن مجید کا چھونا اور اس کا پڑھنا اور مسجد میں جانا جائز نہیں ہے اور اللہ تعالی کا نام لینا اور کلمہ پڑھنا اور درود شریف پڑھنا جائز ہے اور اس قسم کے مسئلوں کو ہم ان شاء اللہ العزیز حیض کے بیان میں اچھی طرح بیان کریں گے۔ مسئلہ نمبر 14: تفسیر کی کتابوں کو بغیر نہائے اور بے وضو چھونا مکروہ ہے اور ترجمہ والے قرآن کو چھونا بالکل حرام ہے۔

April 13, 2020

Ghusal Ka Tarika Aur Masail Part 2 | Islami Masail

Ghusal Ka Tarika Aur Masail Part 2 | Islami Masail

Ghusal Ka Tarika Aur Masail Part 2 | Islami Masail
Ghusal Ka Tarika Aur Masail Part 2 | Islami Masail


غسل کے مسائل پارٹ 2


مسئلہ نمبر 7: غسل کرتے وقت کلمہ پڑھنا یا پڑھ کر پانی پر دم کرنا بھی ضروری نہیں ہے چاہے کلمہ پڑھے یا نہ پڑھے آدمی ہر حال میں پاک ہو جاتا ہے بلکہ نہاتے وقت کلمہ یا کوئی اور دعا نہ پڑھنا بہتر ہے۔ مسئلہ نمبر 8: اگر بدن میں بال برابر بھی کوئی جگہ سوکھی رہ جائے گی تو غسل نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر غسل کرتے وقت کلی کرنا بھول جائے یا ناک میں پانی نہیں ڈالا تو غسل نہیں ہو گا۔ مسئلہ نمبر 9: اگر غسل کے بعد یاد آئے کہ فلانی جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو پھر سے نہانا واجب نہیں بلکہ جہاں سوکھا رہ گیا تھا اسی کو دھو لے لیکن صرف ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ تھوڑا پانی لے کر اس جگہ بہا لینا چاہیے اور اگر کلی کرنا بھول گیا ہو تو اب کلی کر لے اور اگر ناک میں پانی نہیں ڈالا ہو تو اب ڈال لے غرض کہ جو چیز رہ گئی ہو اب اس کو کر لے نئے سرے سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 10: اگر کسی بیماری کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنا نقصان کرے تو سر چھوڑ کر اور سارا بدن دھو لے تب بھی غسل درست ہو گیا لیکن جب صحت مند ہو جائے تو اب سر دھو ڈالنا چاہیے پھر سے نہانے کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ نمبر 11: پیشاب کی جگہ آگے کی کھال کے اندر پانی پہنچانا غسل میں فرض ہے اگر پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہو گا۔ مسئلہ نمبر 12: اگر سر کے بال گندھے ہوئے نہ ہوں تو سب بال بھگونا اور ساری جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک بال بھی سوکھا رہ گیا یا ایک بال کی جڑ میں پانی نہیں پہنچا تو غسل نہیں ہو گا اور اگر بال گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کا بھگونا معاف ہے البتہ سب جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک جڑ بھی سوکھی نہ رہنے پائے اور اگر بغیر کھولے سب جڑوں میں پانی نہ پہنچ سکے تو کھول ڈالنے چاہیے اور بالوں کو بھی بھگو دے۔
مسئلہ نمبر 13: نتھ اور بالیوں اور انگوٹھی چھلوں وغیرہ کو خوب ہلا لینا چاہیے کہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے اور اگر بالیاں نہ پہنے ہو تب بھی قصد کر کے سوراخوں میں پانی ڈال لے ایسا نہ ہو کہ پانی نہ پہنچے اور غسل صحیح نہ ہو البتہ اگر انگوٹھی اور چھلے وغیرہ ڈھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی پانی پہنچ جائے تو ہلانا واجب تو نہیں ہے لیکن ہلا لینا مستحب ہے۔ مسئلہ نمبر 14: اگر ناخن میں آٹا لگ کر سوکھ گیا اور غسل کرتے وقت اس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو غسل نہیں ہوا جب یاد آئے اور آٹا دیکھے تو آٹا چھڑا کر پانی ڈال لے اور اگر پانی پہنچانے سے پہلے کوئی نماز بھی پڑھ لی ہو تو اس نماز کو بھی دوبارہ پڑھے۔
مسئلہ نمبر 15: اگر ہاتھ اور پاؤں پھٹ گئے ہوں اور اس میں موم روغن یا اور کوئی دوا بھری ہوئی ہو تو اس کے اوپر سے پانی بہا لینا درست ہے۔ مسئلہ نمبر 16: کان اور ناک میں بھی خیال کر کے پانی پہنچانا چاہیے اگر پانی نہیں پہنچے گا تو غسل نہیں ہو گا۔ مسئلہ نمبر 17: نہاتے وقت کلی نہیں کی لیکن منہ بھر کے پانی پی لیا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ گیا تو بھی غسل ہو گیا کیونکہ مطلب تو سارے منہ میں پانی پہنچ جانے سے ہے کلی کرے یا نہ کرے البتہ اگر اسی طرح پانی پی لے کہ سارے منہ بھر میں پانی نہ پہنچے تو یہ پانی پینا کافی نہیں ہے کلی کر لینی چاہیے۔
مسئلہ نمبر 18: اگر بالوں میں یا ہاتھ پیروں میں تیل لگا ہوا ہے کہ بدن پر پانی اچھی طرح ٹھہرتا نہیں ہے بلکہ پڑتے ہی ڈھلک جاتا ہے تو اس کا کچھ حرج نہیں ہے جب سارے بدن پر اور سارے سر پر پانی ڈال لیا تو غسل ہو گیا۔ مسئلہ نمبر 19: اگر دانتوں کے بیچ میں ڈلی کا ٹکڑا پھنس گیا تو اس کو خلال سے نکال ڈالے۔ اگر اس کی وجہ سے دانتوں کے بیچ میں پانی صحیح سے نہ پہنچے گا تو غسل نہیں ہو گا۔
مسئلہ نمبر 20: ماتھے پر افشاں چنی ہو یا بالوں میں اتنا گوند لگا ہے کہ بال اچھی طرح نہ بھیگیں گے تو گوند خوب چھڑا ڈالنا چاہیے اور افشاں بھی دھو ڈالے۔ اگر گوند کے نیچے پانی نہ پہنچے گا اوپر ہی اوپر سے بہہ جائے گا تو غسل نہ ہو گا۔ مسئلہ نمبر 21: اگر مسی کی دھڑی جما لی ہے تو اس کو چھڑا کر کلی کرے نہیں تو غسل درست نہیں ہو گا۔ مسئلہ نمبر 22: اگر کسی کی آنکھیں دکھتی ہوں اس کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے کیچڑ بہت نکلا اور ایسا سوکھ گیا کہ اگر اس کو چھڑانے کی کوشش نہیں کرتا اور اس کے چھڑائے بغیر اس کے نیچے آنکھ کے کوے پر پانی نہ پہنچے گا تو اس کا چھڑا ڈالنا واجب ہے بغیر اس کے چھڑائے نہ وضو درست ہے اور نہ ہی غسل اول اس کو چھڑائے پھر غسل کرے۔ 
April 13, 2020

Ghusal Ka Tarika Aur Masail | Islami Masail

Ghusal Ka Tarika Aur Masail | Islami Masail

Ghusal Ka Tarika Aur Masail | Islami Masail
Ghusal Ka Tarika Aur Masail | Islami Masail


غسل کا طریقہ اور مسائل


مسئلہ نمبر 1: غسل کرنے والے کو چاہیے کہ پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے، ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور اگر نجاست نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے۔ پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو پاک کرے پھر وضو کرے۔ اگر کسی چوکی یا پتھر پر غسل کرتا ہو تو وضو کرتے وقت پیر بھی دھو لے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر سے دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے پھر وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے پھر تین مرتبہ داہنے کندھے پر پانی ڈالے پھر تین مرتبہ بائیں کندھے پر پانی ڈالے اس طرح کہ سارے جسم پر پانی بہہ جائے پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آجائے اور پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھو لئے ہوں تو وہی کافی ہے اب دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 2: پہلے سارے جسم پر اچھی طرح ہاتھ پھیر لے تب پانی بہائے تا کہ سب جگہ اچھی طرح پانی پہنچ جائے کہیں سوکھا نہ رہے۔ مسئلہ نمبر 3: غسل کا طریقہ جو ابھی ہم نے بیان کیا سنت کے موافق ہے اس میں سے بعض چیزیں فرض ہیں ان کے بغیر غسل درست نہیں ہوتا آدمی ناپاک ہی رہتا ہے۔ اور بعض چیزیں سنت ہیں ان کے کرنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہ کرے تو بھی غسل ہو جاتا ہے۔ فرض صرف تین چیزیں ہیں۔

غسل کے فرائض


اس طرح کلی کرنا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے، ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک ناک نرم ہے، سارے بدن پر پانی پہنچانا۔ فرض صرف یہ تین چیزیں ہی ہیں۔
مسئلہ نمبر 4: غسل کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور پانی بہت زیادہ نہ پھینکے اور نہ بہت کم لے کہ اچھی طرح غسل ہی نہ کر سکے اور ایسی جگہ غسل کرے کہ کوئی دیکھ نہ سکے اور غسل کرتے وقت باتیں نہیں کرنی چاہیے اور غسل کے بعد کسی کپڑے سے اپنا بدن پونچھ ڈالے اور بدن ڈھکنے میں بہت جلدی کرے یہاں تک کہ اگر وضو کرتے وقت پیر نہ دھوئے ہوں تو غسل کی جگہ سے ہٹ کر پہلے اپنا بدن ڈھکے پھر دونوں پیر دھوئے۔
مسئلہ نمبر 5: اگر تنہائی کی جگہ ہو جہاں کوئی نہ دیکھ پائے تو ننگے ہو کر نہانا بھی درست ہے چاہے کھڑے ہو کر نہائے یا بیٹھ کر اور چاہے غسل خانہ کی چھت پٹی ہو یا نہ پٹی ہو لیکن بیٹھ کر نہانا بہتر ہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے اور ناف سے لیکر گھٹنے کے نیچے تک کا حصہ مرد کا مرد کے سامنے اور عورت کا عورت کے سامنے بھی کھولنا گناہ ہے۔ اکثر عورتیں دوسری عورتوں کے سامنے بالکل ننگی ہو کر نہاتی ہیں یہ بڑی بُری اور بے غیرتی کی بات ہے۔ مسئلہ نمبر 6: جب سارے بدن پر پانی خوب پڑ جائے اور کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے تو غسل ہو جائے گا چاہے غسل کرنے کا ارادہ ہو چاہے نہ ہو۔ تو اگر کوئی بارش میں نہایا یا حوض وغیرہ میں گر گیا اور سارا بدن بھیگ گیا اور کلی بھی کر لی اور ناک میں پانی بھی ڈال لیا تو غسل ہو گیا۔
April 13, 2020

Wazu Torne Wali Cheeze Part 4 | Islami Masail

Wazu Torne Wali Cheeze Part 4 | Islami Masail

Wazu Torne Wali Cheeze Part 4 | Islami Masail
Wazu Torne Wali Cheeze Part 4 | Islami Masail


وضو توڑنے والی چیزیں پارٹ 4 


مسئلہ نمبر 23: پیشاب یا مذی کا قطرہ سوراخ سے باہر نکل آیا لیکن ابھی اسی کھال کے اندر ہے جو اوپر ہوتی ہے تو تب بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 24: مرد کے پیشاب کے مقام سے جب عورت کے پیشاب کا مقام مل جائے اور کچھ کپڑا وغیرہ بیچ میں آڑ نہ ہو تو اس صورت حال میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ایسی ہی اگر دو عورتیں اپنی اپنی پیشاب گاہ ملا دیں تب بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ خود نہایت بُرا اور گناہ ہے دونوں صورتوں میں چاہے کچھ نکلے چاہے نہ نکلے دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔
مسئلہ نمبر 25: وضو کے بعد ناخن کٹائے یا زخم کے اوپر کی مردار کھال نوچ ڈالی تو اس سے وضو میں کوئی نقصان نہیں آتا یعنی وضو نہیں ٹوٹتا۔ نہ تو وضو کے دوہرانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اتنی جگہ کے پھر سے گیلا کرنے کا حکم ہے۔ مسئلہ نمبر 26: وضو کے بعد کسی کا ستر دیکھ لیا یا اپنا ستر کھل گیا یا کوئی ننگا ہو کر نہایا یا ننگے ہی ننگے وضو کیا تو اس کا وضو درست ہے پھر وضو دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے البتہ بغیر کسی لا چاری کے کسی کا ستر دیکھنا یا اپنا ستر دکھانا گناہ کی بات ہے۔
مسئلہ نمبر 27: جس چیز کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ ناپاک ہوتی ہے اور جس سے وضو نہیں ٹوٹتا وہ ناپاک بھی نہیں۔ تو اگر ذرا سا خون نکلا کہ زخم کے منہ سے بہا نہیں یا ذرا سے قے ہوئی منہ بھر کے قے نہیں ہوئی اور اس میں کھانا یا پانی یا پت یا جما ہوا خون نکلا تو یہ خون اور یہ قے نجس نہیں ہے اور اگر کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور اگر منہ بھر کے قے ہوئی اور خون زخم سے بہہ گیا تو وہ ناپاک ہے اس کا دھونا واجب ہے اور اگر اتنی قے کر کے کٹورے یا لوٹے کو منہ لگا کر کلی کے لئے پانی لیا تو وہ برتن ناپاک ہو جائے گا اس لئے چلو سے پانی لینا چاہیے۔
مسئلہ نمبر 28: چھوٹا بچہ جو دودھ ڈالتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر منہ بھر کے نہ ہو تو ناپاک نہیں ہے اور اگر منہ بھر کر ہو تو ناپاک ہے اگر اس کے دھوئے بغیر نماز پڑھی تو نماز نہیں ہو گی۔ مسئلہ نمبر 29: اگر وضو کرنا تو یاد ہے لیکن اس کے بعد وضو ٹوٹنا اچھی طرح یاد نہیں کہ پتہ نہیں ٹوٹا ہے یا نہیں ٹوٹا تو اس سے وضو باقی سمجھا جائے گا اسی وضو سے بھی نماز درست ہے لیکن پھر وضو کر لینا بہتر ہے۔ مسئلہ نمبر 30: جس کو وضو کرنے میں شک ہو کہ فلاں عضو دھویا ہے یا نہیں دھویا تو وہ عضو پھر سے دھو لینا چاہیے اور اگر وضو مکمل کرنے کے بعد شک ہوا تو کچھ خیال نہ کرے وضو ہو گیا البتہ اگر یقین ہو جائے کہ فلانا عضو دھونا رہ گیا ہے تو اس کو دھو لے۔
مسئلہ نمبر 31: بغیر وضو کے قرآن مجید کا چھونا درست نہیں ہے ہاں اگر ایسے کپڑے سے چھو لے جو بدن سے جدا ہو تو درست ہے۔ دوپٹہ یا کرتے کے دامن سے جب کہ اس کو پہنے اوڑھے ہوئے ہو تو اس سے چھونا درست نہیں ہاں اگر اترا ہوا ہو تو اس سے چھونا درست ہے۔ اور زبانی پڑھنا درست ہے اور کلام مجید کھلا ہوا رکھا ہے اس کو دیکھ دیکھ کر پڑھا لیکن ہاتھ نہیں لگایا تو یہ بھی درست ہے۔ اسی طرح بے وضو ایسے تعویز کا چھونا بھی درست نہیں جس میں قرآن کریم کی آیت لکھی ہوئی ہو۔